
پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر سرحدی جھڑپیں جاری ہیں اور دونوں فریق ایک دوسرے کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
پاکستان جو ایٹمی طاقت رکھنے والا واحد مسلم ملک ہے، اس کا عسکری میدان میں بظاہر تو افغانستان سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ پاکستان جدید ہتھیاروں، پیشہ وارانہ مہارت اور عسکری صلاحیت میں افغانستان سے بہت آگے ہے لیکن افغان طالبان کے پاس کتنی عسکری قوت ہے؟ آئیے لندن میں قائم ایک ادارے 'انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹرٹیجک اسٹڈیز' کے ڈیٹا سے اس کا ایک جائزہ لیتے ہیں۔
ایک مختصر جائزہ
پاکستان کی فوج عسکری صلاحیت اور پیشہ وارانہ مہارت کے اعتبار سے دنیا کی طاقت ور افواج کے ہم پلہ ہے۔ پاکستانی فوج جدید اسلحے سے لیس ہے اور اپنی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کرتی رہتی ہے۔ چائنہ کے ساتھ پاکستان کی مضبوط دفاعی شراکت داری ہے۔ پھر پاکستان ایٹمی طاقت اور مضبوط فضائی و بحری افواج بھی رکھتا ہے۔
افغان طالبان کی فورسز کی بات کی جائے تو نہ ان کے پاس کوئی ایئرفورس ہے نہ سمندر تک رسائی ہونے کی وجہ سے بحری افواج۔
طالبان فورسز عسکری صلاحیت میں بھی بہت پیچھے ہیں اور مزید زوال پذیری کا شکار ہیں۔ گو کہ افغانستان میں بڑی تعداد میں امریکی و اتحادی افواج کا چھوڑا گیا جدید اسلحہ موجود ہے جو اب طالبان کے قبضے میں ہے، مگر طالبان فورسز کے پاس اس ساز و سامان کے مؤثر استعمال کی تیکینکی صلاحیت نہیں ہے۔
طالبان کو عالمی برادری نے بھی اب تک افغانستان کی جائز حکومت تسلیم نہیں کیا ہے جو ان کی پیشہ وارانہ مہارت میں اضافے اور عسکری قوت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں ایک اور بڑی رکاوٹ ہے۔
افرادی قوت
پاکستان کی افواج کی فعال افرادی قوت چھ لاکھ 60 ہزار سے زیادہ ہے۔ پاکستان کی بری فوج میں پانچ لاکھ 60 ہزار کے قریب اہلکار ہیں، فضائی افواج کے پاس 70 ہزار اہلکار جب کہ بحری افواج کے اہلکاروں کی تعداد 30 ہزار کے قریب ہے۔
افغان طالبان کی فورسز کے پاس صرف ایک لاکھ 72 ہزار اہلکار ہیں۔ مستقبل میں وہ اپنی فوج کی تعداد دو لاکھ تک لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
جنگی گاڑیاں اور توپ خانہ
پاکستان کے پاس 6000 کے قریب لڑائی میں استعمال ہونے والی گاڑیاں ہیں جن میں ٹینک وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 4600 سے زیادہ توپیں ہیں۔
افغان فورسز کے پاس بھی لڑائی میں استعمال ہونے والی گاڑیاں ہیں جن میں سوویت دور کے ٹینک بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بکتر بند گاڑیاں اور پانی میں چلنے والی گاڑیاں بھی موجود ہیں۔ لیکن ان کی تعداد معلوم نہیں۔
افغان فورسز کے پاس تین مختلف اقسام کی توپیں بھی ہیں لیکن ان کی بھی تعداد واضح نہیں۔
فضائی قوت
پاکستان کے پاس 465 لڑاکا طیارے اور 260 ہیلی کاپٹر ہیں۔ ان میں جنگی ہیلی کاپٹرز کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ میں استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹر بھی موجود ہیں۔
افغانستان کے پاس کوئی لڑاکا طیارہ اور ایئرفورس نہیں ہے۔ طالبان کے پاس کم از کم چھ جہاز موجود ہیں جن میں سے کچھ سوویت دور کے ہیں۔ اس کے علاوہ 23 ہیلی کاپٹر بھی ہیں۔ لیکن ان میں سے کتنے پرواز کر سکتے ہیں، اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔
ایٹمی ہتھیار
پاکستان دنیا کے ان نو ملکوں میں شامل ہے جو ایٹمی ہتھیار رکھتے ہیں۔ پاکستان کے پاس موجود ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد 170 تک ہے جب کہ افغانستان ایٹمی قوت نہیں ہے۔






