
بنگلہ دیش کے انتخابات کے غیر سرکاری نتائج سامنے آ چکے ہیں جن کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) بھاری اکثریت سے جیتتی نظر آ رہی ہے۔
بی این پی کے سربراہ طارق رحمان لندن میں تقریباً بیس برس کی خود ساختہ جلا وطنی کے بعد دسمبر 2025 میں ملک واپس آئے تھے اور محض دو ماہ سے بھی کم عرصے میں اب وہ وزیرِ اعظم کے امیدوار کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
امکان یہی ہے کہ طارق رحمان وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالیں گے۔ بالکل اسی طرح جیسے ماضی میں ان کے والدین ملک کی قیادت کر چکے ہیں۔

60 سالہ طارق رحمان کو 2007 میں بنگلہ دیش کی فوجی حمایت یافتہ نگران حکومت کے دور میں کرپشن کے الزامات پر گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ 18 ماہ جیل میں گزارنے کے بعد وہ ستمبر 2008 میں رہا ہوئے اور علاج کی غرض سے ملک چھوڑ کر اپنے خاندان کے ساتھ لندن منتقل ہو گئے۔
تقریباً 17 سال لندن میں خود ساختہ جلا وطنی گزارنے کے بعد وہ 25 دسمبر کو ڈھاکہ واپس آئے۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں نوجوانوں کی قیادت میں چلائی گئی تحریک نے اگست 2024 میں ان کی دیرینہ حریف عوامی لیگ کی طویل عرصہ تک وزیرِاعظم رہنے والی شیخ حسینہ کو اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا۔ ڈھاکا پہنچنے پر طارق رحمان کا شان دار استقبال کیا گیا۔
خارجہ پالیسی اور معاشی وژن
طارق رحمان نے عندیہ دیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کی بین الاقوامی شراکت داریوں کو ازسرِنو ترتیب دیں گے اور کسی ایک قوت یا ملک کے ساتھ حد سے زیادہ قربت نہیں ہوگی۔ یہ مؤقف شیخ حسینہ کی پالیسی سے مختلف ہے جنہیں نئی دہلی کے قریب سمجھا جاتا تھا۔

تیز رفتار سیاسی تبدیلیاں
ڈھاکا واپسی کے بعد حالات اس قدر تیزی سے بدلے کہ خود طارق رحمان کے مطابق انہیں سوچنے کا موقع تک نہیں ملا۔
انہوں نے گزشتہ ہفتے اپنی جماعت کے دفتر میں خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا 'مجھے نہیں معلوم کہ جب سے میں واپس آیا ہوں، وقت کیسے گزر گیا۔'
امیج کی تبدیلی
20 نومبر 1965 کو ڈھاکہ میں پیدا ہونے والے طارق رحمان نے ڈھاکہ یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات کی تعلیم حاصل کی تاہم ڈگری مکمل نہ کر سکے۔ بعد ازاں انہوں نے ٹیکسٹائل اور زرعی مصنوعات کے شعبے میں کاروبار شروع کیا۔
2001 سے 2006 کے دوران جب ان کی والدہ وزیرِاعظم تھیں، تو طارق رحمان کو بی این پی کے ایک طاقت ور مگر متنازع کردار کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ اگرچہ انہوں نے کبھی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا، تاہم ان پر 'متوازی اقتدار' چلانے کے الزامات لگتے رہے جن کی وہ تردید کرتے ہیں۔
تاہم وطن واپسی کے بعد انہوں نے خود کو ایک نرم گو اور مدبر رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو ماضی کی تلخیوں سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
ان کے بقول 'انتقام سے کسی کو کیا ملتا ہے؟ لوگ انتقام کی وجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس سے کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ اس وقت ملک کو امن اور استحکام کی ضرورت ہے۔'

مفاہمت اور نئی شروعات کا پیغام
لندن میں قیام کے دوران طارق رحمان نے اپنی جماعت بی این پی کو انتخابات میں مسلسل پسپائی کا شکار ہوتے دیکھا۔ سینئر رہنماؤں کو جیل جاتے، کارکنوں کو لاپتا ہوتے اور پارٹی دفاتر کو بند ہوتے دیکھا۔
وطن واپسی کے بعد انہوں نے اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرتے ہوئے مفاہمت اور تحمل کا پیغام دیا ہے۔ وہ 'ریاست پر عوام کی ملکیت کی بحالی' اور اداروں کی ازسرِنو تعمیر کی بات کرتے ہیں۔
پارٹی پر مضبوط گرفت
بی این پی کے اندر طارق رحمان کی گرفت مضبوط سمجھی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق امیدواروں کے انتخاب، انتخابی حکمتِ عملی اور اتحادیوں سے مذاکرات کی نگرانی انہوں نے خود کی۔
طارق رحمان کا کہنا ہے کہ جمہوریت کی بحالی اور اس کا تسلسل ہی ان کی اولین ترجیح ہو گی۔
انہوں نے کہا 'ہم صرف جمہوریت پر عمل کر کے ہی ترقی کر سکتے ہیں اور اپنے ملک کی تعمیرِنو کر سکتے ہیں۔ اگر ہم جمہوریت پر عمل کریں گے تو احتساب قائم کر سکیں گے۔ ہم جمہوریت چاہتے ہیں اور اپنے ملک کو دوبارہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔'






