سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے آج ہونے والے مذاکرات منسوخ، اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری

09:5119/06/2026, Cuma
جنرل19/06/2026, Cuma
ویب ڈیسک
لبنان میں اسرائیل کے حملوں کے بعد کے مناظر
لبنان میں اسرائیل کے حملوں کے بعد کے مناظر

سوئٹزرلینڈ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے معاہدے کے اگلے مرحلے کے لیے آج ہونے والے مذاکرات منسوخ ہو گئے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وین نے بھی جینیوا جانے کا پلان منسوخ کر دیا ہے۔

امریکہ اور ایران کی جانب سے جس ابتدائی معاہدے پر بدھ کو ڈیجیٹل دستخط کیے گئے، اس کی باضابطہ تقریب بھی سوئٹزرلینڈ میں جمعے کو شیڈول تھی جس کا میزبان پاکستان تھا۔ تاہم گزشتہ روز ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے اس تقریب میں شرکت سے متعلق عدم دلچسپی ظاہر کی گئی تھی۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس تقریب کو غیر ضروری قرار دیا تھا، اس کا کہنا تھا دونوں ملکوں کے صدور پہلے ہی معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں۔

تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی گزشتہ روز سوئٹزرلینڈ روانہ ہونا تھا تاہم روانگی سے چند گھنٹے قبل ان کا دورہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس کے بعد جمعرات کی رات وائٹ ہاؤس کے ترجمان کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ 'ان مذاکرات کی لاجسٹکس کبھی بھی سادہ اور متوقع نہیں رہیں۔' جیسے ہی دورے کا منصوبہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے، جے ڈی وینس اور امریکی وفد وہاں جانے کے لیے تیار ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ نے یہ تو تصدیق کر دی ہے کہ برگن اسٹاک کے ریزورٹ میں جمعے کو طے شدہ مذاکرات اب نہیں ہو رہے۔ تاہم اس کی جانب سے تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

ایران کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ وہ بدھ کو 14 نکاتی معاہدے پر دستخط کے بعد تیکنیکی مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

تاہم ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی 'تسنیم' نے جے ڈی وینس کے دورہ منسوخی کے اعلان سے قبل کہا تھا کہ ایرانی مذاکرات کار پہلے ان قرائن کا جائزہ لیں گے کہ امریکہ ابتدائی معاہدے پر عمل درآمد کر رہا ہے یا نہیں اور ابھی اس کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ ایرانی وفد جینیوا جائے گا یا نہیں۔

اسرائیل کے حملے جاری

دوسری جانب اسرائیل اب تک امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو قبول کرتا دکھائی نہیں دے رہا اور وہ لبنان میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے اسرائیلی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔

جمعے کو اسرائیل کے تازہ ترین حملوں سے لبنان میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اب تک لبنان میں دس لاکھ سے زیادہ افراد اسرائیلی حملوں کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں۔

اسرائیل کی جاری کارروائیوں سے معاہدے پر بھی خدشات پیدا ہو رہے ہیں اور یہ سوال بھی جنم لے رہا ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیل کو روکنے کے لیے کس حد تک جائیں گے۔

امریکہ ایران معاہدے میں واضح طور پر لبنان کا نام لے کر ذکر ہے کہ وہاں بھی حملے روکے جائیں گے۔ تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا جنوبی لبنان کے علاقوں سے انخلا کا کوئی ارادہ نہیں بلکہ اس نے اپنے زیر قبضہ علاقوں کو مزید بڑھا کر ظاہر کیا ہے۔


#سوئٹزرلینڈ
#ایران
#امریکہ
#اسرائیل
#لبنان