پانی روکنے کی کسی بھی کوشش کے دور رس نتائج ہوں گے: انڈین وزیرِ کے بیان پر پاکستان کا انتباہ

13:5811/06/2026, Perşembe
جنرل11/06/2026, Perşembe
ویب ڈیسک
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے تنبیہ کی ہے کہ انڈیا کی جانب سے جان بوجھ کر پانی روکنے کی کسی بھی کوشش کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران انڈین وزیرِ کے پانی روکنے سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بقا اور ترقی کے لیے انتہائی ضروری پانی کو روکنے کے کسی بھی اقدام کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت جنگی اقدام کے طور پر بھی لیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز انڈیا کے وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹل نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ انڈیا یقینی بنائے گا کہ پانی کا ایک قطرہ بھی پاکستان نہ پہنچ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ہدایت کے مطابق اس منصوبے پر کام کر رہی ہے اور آئندہ چند برسوں میں یہ ممکن ہو سکتا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ' 25 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کے روزگار، زراعت اور فلاح و بہبود کے لیے ناگزیر پانی کو روکنے یا اس کے بہاؤ میں نمایاں کمی لانے کی کوئی بھی کوشش انتہائی غیر ذمے دارانہ اقدام ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اقدام سرحد کے دونوں جانب بہنے والے دریاؤں سے متعلق بین الاقوامی ذمے داریوں اور پاکستان و بھارت کے درمیان موجود دو طرفہ معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہوگا۔

طاہر اندرابی نے زور دیا کہ پاکستان اس تصور کو سختی سے مسترد کرتا ہے کہ پانی کو سیاسی ہتھیار ، دباؤ ڈالنے کے آلے یا کسی ملک کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا جائے۔ ایسا کوئی بھی اقدام نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ اس سے باہر بھی خطرات پیدا کرے گا اور اس کی مکمل ذمے داری انڈیا پر عائد ہوگی۔

ان کے بقول پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے دستیاب تمام سفارتی، سیاسی، قانونی، اقتصادی اور دیگر ذرائع بھرپور انداز میں استعمال کرےگا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ہر ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ پاکستان بھی اپنی معیشت اور اہم قومی مفاد اور 25 کروڑ عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔

انڈیا کی جانب سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافے سے متعلق ایک سوال پر طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتا اور نہ ہی اسلحے کی تعداد بڑھانے پر یقین رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں اسٹرٹیجک استحکام برقرار رکھنے اور کسی بھی ممکنہ بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتِ حال کو سنجیدگی سے دیکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔

#پاک بھارت تعلقات
#پاکستان
#انڈیا
#دفتر خارجہ
#آبی تنازعہ