افغانستان کا پاکستانی فضائی حملوں میں شہری ہلاکتوں کا الزام، پاکستان کا 26 دہشت گرد ہلاک کرنے کا دعویٰ

10:2010/06/2026, بدھ
جنرل10/06/2026, بدھ
ویب ڈیسک
AA
پاک افغان سرحد کی ایک تصویر (فائل فوٹو)
پاک افغان سرحد کی ایک تصویر (فائل فوٹو)

افغانستان نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے بدھ کو اس کے تین صوبوں میں فضائی حملے کیے ہیں جن میں 13 شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 11 بچے شامل ہیں۔ جب کہ دوسری جانب پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر جاری اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ پاکستان کے لڑاکا طیاروں نے ملکی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور گھروں پر حملے کیے۔ ترجمان کے بقول کنڑ، خوست اور پکتیکا صوبوں میں فضائی حملے کیے گئے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ 11 بچے، ایک خاتون اور ایک معمر شخص ان حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں جب کہ 14 خواتین و بچے زخمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 'ہم انسانیت کے خلاف اس جرم اور جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔'

پاک افغان سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں: وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ

پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان نے ملک میں دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں کے جواب میں پاک افغان سرحدی علاقوں میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے اس کے تین صوبوں میں فضائی حملے کیے ہیں جن میں 13 شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

بدھ کو اپنے بیان میں وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں، جن میں موسیٰ درہ میں ایف سی کی پوسٹ پر حملہ، شمالی وزیرستان میں فوجی چیک پوسٹ پر خودکش حملہ اور بنوں میں پولیس اسٹیشن پر حملہ شامل ہیں، کے جواب میں کارروائی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں ان حملوں کے ماسٹر مائنڈز اور منصوبہ بندی کرنے والوں کے محفوظ ٹھکانوں کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

وزیرِ اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں میں 26 انڈین اسپانسرڈ خوارج (ٹی ٹی پی کے جنگجو) ہلاک ہوئے ہیں۔

عطا تارڑ نے مزید کہا کہ چار اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا جن میں ایک ٹریننگ سینٹر، پناہ گاہ، اسلحہ خانہ اور فتنہ الخوارج کے کمانڈروں کے مراکز شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن اور سلامتی کی بات کرتا ہے لیکن ساتھ ہی ہمیں اپنے شہریوں کا تحفظ اور سلامتی یقینی بنانا بھی ہماری اولین ترجیح ہے۔

پاکستان افغانستان سے مطالبہ کرتا آ رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ دہشت گرد افغان سرزمین پر پناہ لیتے ہیں اور وہاں سے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ افغانستان ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان اس معاملے پر اختلافات کئی مہینوں سے برقرار ہیں اور اب تک کئی بار سرحدی جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے وقتاً فوقتاً افغانستان میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کے بھی کئی دور ہو چکے ہیں جو اب تک بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں۔

#پاکستان
#افغانستان
#فضائی حملے
#طالبان
#طالبان حکومت